Thursday, May 30, 2024

مصنوعی ذہانت انتخابات پر اثر انداز ہونے کا اندیشہ ہے، ماہرین

- Advertisement -

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی امریکی کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹ مین نے امریکی سینیٹ کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا انتخابات میں مداخلت باعث تشویش ہے اور اس پر قواعد و ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔ سیم آلٹمین نے کہا کہ وہ اس بارے میں فکر مند ہیں۔

کانگریس کے سامنے اپنی پہلی پیشی میں، اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹ مین نے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ٹیسٹ اور لائسنس کے لیے لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

انگلش میں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں 

انہوں نے کہا کہ ہر وہ ماڈل جو کسی بھی شخص کے عقائد پر اثر انداز ہو اور اسے کنٹرول کر سکے اس کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی شرط رکھی جائے۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کو مصنوعی ذہانت سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے مدعو کیا ہے۔

امریکی قانون ساز بھی اس حوالے سے ضوابط متعارف کروانا چاہتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو محدود کیا جا سکے اور اس کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز مارکیٹ میں متعارف کروا رہی ہیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تعصب اور غلط معلومات کے پھیلاؤ میں اضافہ کرے گی اور معاشرے کو مزید نقصان پہنچائے گی، جب کہ بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت خود انسانیت کو ختم کر سکتی ہے۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں