Saturday, April 13, 2024

صوبہ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

- Advertisement -

بلوچستان انتظامیہ نے پورے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔

صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کے باعث بلوچستان کے تمام ہیڈ ماسٹرز، سینئر اساتذہ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اپنے اپنے سٹیشنوں پر رہیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق کوئی بھی شخص بغیر اطلاع دیے ڈیوٹی اسٹیشن نہیں چھوڑے گا۔

حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ ہر ضلع کا ای ڈی او روزانہ تین اسکولوں کا دورہ کرے گا اور تفصیلی رپورٹ فراہم کرے گا۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے چیف سیکریٹری میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے 2 ہزار غیر حاضر اساتذہ کو برطرف کرنے کا حکم دیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ تعلیم میں کسی مداخلت کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کا انتخاب کرنے کا حکم دیا۔

اس تناظر میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان میں فی بچہ ماہانہ خرچہ 5625 روپے ہے۔ فی بچہ سالانہ لاگت تقریباً 72,000 روپے ہے، جو تمام بچوں کو ملک کے بہترین نجی اسکولوں میں جانے کی اجازت دیتا ہے۔

تازہ ترین خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں