Thursday, May 30, 2024

سابق وزیراعظم عمران خان پر توہین مذہب کا الزام

- Advertisement -

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت ایک بار پھر سابق وزیراعظم عمران خان پر توہین مذہب کا الزام لگانے والی سالانہ امریکی رپورٹ پر تنقید کی زد میں آگئی ہے۔

پیر کو توہین مذہب کے معملے پر واشنگٹن میں جاری ہونے والی بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں ایک امریکی تحقیق کے مطابق، کئی سیاسی شخصیات نے گزشتہ سال اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لیے جارحانہ مذہبی بیان بازی کا استعمال کیا۔ سال کے آخر کی رپورٹ میں سال 2022 کا احاطہ کیا گیا ہے۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

رپورٹ میں کہا گیا کہ 13 ستمبر کو پاکستان مسلم لیگ نواز پارٹی کے رہنما جاوید لطیف نے ایک پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام لگایا کہ وہ اپنے عہدے پر رہتے ہوئے احمدیہ برادری کی حمایت کر کے اسلام کے بنیادی اصولوں پر حملہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جاوید لطیف نے عمران خان کو غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کے دوران قادیانیوں کو مذہبی آزادی کا وعدہ کرنے کا الزام لگایا۔

اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 7 ستمبر کو جے یو آئی ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ٹویٹس میں عمران خان کو قادیانی نواز اور یہودی ایجنٹ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے حکومت پر مذہبی تعصب اور نفرت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی تھہی۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں