Thursday, May 30, 2024

دیبل کی تاریخی حیثیت

- Advertisement -

دیبل ایک قدیم بندرگاہ تھی جو جدید کراچی، سندھ، پاکستان کے قریب واقع تھی۔ عربی میں اسے عرف عام میں دیبل کہا جاتا تھا۔

دیوال یہ دیبل قریبی جزیرے منوڑہ سے ملحق ہے۔ اس پر منصورہ اور بعد میں ٹھٹھہ کی حکومت تھی۔ منوڑہ یا منہورو جزیرہ ایک چھوٹا جزیرہ نما ہے جو 2.5 کلومیٹر پر مشتمل کراچی کی بندرگاہ کے بالکل جنوب میں واقع ہے۔

عربی تاریخ کی کتابوں میں خاص طور پر آٹھویں صدی کے اوائل میں برصغیر پاک و ہند میں اسلام کے تعارف کی کہانیوں میں اسے دیبل کہا جاتا ہے۔ ایک نظریہ کے مطابق، یہ نام سنسکرت کے لفظ دیولیا سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے خدا کا گھر۔ جبکہ چچ نامہ کا دعویٰ ہے کہ دیبل نام دیول لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب مندر ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی اس میں ایک مشہور مندرہوا کرتا تھا۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

محمد بن قاسم کا پہلا شہر

محمد بن قاسم کا پہلا شہر جس پر طاقت کے ذریعے قبضہ کیا گیا وہ دیبل تھا جسے اب بنبھور کے کھنڈرات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ البلادھوری، ایک مسلمان مورخ جس نے ہندوستان میں ابتدائی اسلامی حملوں کا مکمل بیان لکھا،ان کے مطابق تین دنوں کے دوران لوگوں کے ایک حصے کا قتل ہو گیا۔

دیبل کی تاریخی حیثیت

چچنامہ اور عرب مورخ بالادھوری کے مطابق، راجہ داہر نے دیبل کی دو لڑائیوں کے دوران عربوں کو دو بار شکست دی، جب کہ راجہ داہر کے بیٹے جیسیہ کے ماتحت سندھیوں نے عرب کمانڈروں عبید اللہ اور بازل کو قتل کیا۔دیبل کے علاقے میں ساتویں صدی کے آخر تک جاٹوں کی کافی آبادی تھی۔ آٹھویں صدی کے آغاز میں جب عرب لیڈر محمد بن قاسم سندھ آئے تو دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر جاٹ آباد تھے۔ان کی بنیادی بستیاں زیریں سندھ میں تھیں، خاص طور پر برہمن آباد منصورہ اور لوہانہ برہمن آباد کے آس پاس۔

اہم تجارتی مرکز

جدید آثار قدیمہ کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ دیبل پہلی صدی عیسوی میں قائم ہوا تھا اور جلد ہی سندھ میں سب سے اہم تجارتی مرکز کے طور پر نمایاں ہوا۔ ہزاروں سندھی ملاح، خاص طور پر باواریوں ، دیبل کو اپنا گھر کہتے تھے۔ ابن حوقل شہر کے مکانات کے ساتھ ساتھ اس کے اردگرد بہت کم کھیتی باڑی والے خشک علاقے کو بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ شہر کے مکینوں نے کس قدر مؤثر طریقے سے اپنی تجارت اور ماہی گیری کو بنیاد بنا کر اسے برقرار رکھا۔قدیم ترین پتھر کی تعمیرات، جیسے شہر کی دیوار اور ایک قلعہ، عباسیوں نے تعمیر کیا تھا۔

دیبل کی تاریخی حیثیت

عثمانی ایڈمرل سیدی علی رئیس نے 1554 میں دیبل اور منوڑہ جزیرے کا دورہ کیا تھا اور اس کے بارے میں اپنی کتاب میرات الممالک میں بھی لکھا ہے۔

پندرہ سو اڑسٹھ میں دیبل میں تعینات عثمانی بحری جہازوں پر قبضہ کرنے یا اسے ختم کرنے کی کوشش میں، پرتگالی ایڈمرل فرناؤ مینڈیس پنٹو نے حملہ کیا تھا۔

تھامس پوسٹنز اور ایلیٹ جیسے برطانوی سفری مصنفین، جو ٹھٹھہ شہر کی اپنی واضح عکاسی کے لیے مشہور ہیں،انھوں نے بھی دیبل کا دورہ کیا تھا۔

893ء میں آنے والے زلزلے نے بندرگاہی شہر دیبل کو تباہ کر دیا۔ہو سکتا ہے کہ شہر اس کے فوراً بعد زوال کا شکار ہو گیا ہو جب دریائے سندھ نے اپنا رخ تبدیل کیا تولوگوں نے اس جگہ کو بالآخر ترک کر دیا ۔ 1300 کی دہائی کے اوائل تک دیبل ابن بطوطہ کی سندھ کی تفصیل سے مکمل طور پر غائب تھا۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں