Thursday, May 30, 2024

پاکستان میں رمضان کیسے منایا جاتا ہے؟

- Advertisement -

پاکستان میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ان گنت برکات کی وجہ سے، مسلمان اس مہینے میں دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔ پاکستانیوں کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہمدرد لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رمضان کو دینے کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے پاکستان کی عوام میں جزبہ ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ تقریباً ہر پاکستانی کسی نہ کسی طریقے سے کچھ عطیہ کرتا ہے۔

روزے کا مطلب دولت مندوں کو یہ یاددہانی کرانا ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں ہے اور وہ بلا تعطل تمام روزے بھی رکھتے ہیں۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

فلاحی ادارے

پاکستان میں دیگر فلاحی ادارے رمضان المبا رک میں مستحق، محروم اور ضرورت مندوں کی دل کھول کر مدد کرتے ہیں
۔ رمضان کے دوران، الخدمت فاؤنڈیشن، جو خیراتی ہسپتالوں کے ملک گیر نیٹ ورک کے انتظام کے ساتھ ساتھ  ملک بھر میں 500,000 افراد کی خوراک کا بندوبست کرتی ہے۔

۔ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ماہ رمضان کے دوران کراچی میں پسماندہ افراد کو 100,000 راشن بیگ فراہم کرتا ہے۔

۔ چیریٹی کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 250,000 لوگوں کو افطار اور رات کا کھانا بھی فراہم کرے گا۔

۔ جے ڈی سی فاؤنڈیشن کے تحت روزانہ چالیس ہزار لوگوں کوسحری کرائی جاتی ہے۔

روزہ داروں کو کھانا کھلانا

رمضان المبارک میں، جب ہم اپنے روزے کے دوران بھوک کے اثرات کا تجربہ کرتے ہیں، تو ہم ان لوگوں کے ساتھ قریبی تعلق قائم کرتے ہیں جو عام طور پر خوراک کی کمی کی وجہ سے اس حالات سے گزرتے ہیں۔ لہذا، روزہ دو مقاصد کو پورا کرتا ہے۔
۔ ایک یہ کہ اللہ آپ کی فرمانبرداری اور عقیدت کا امتحان لیتا ہے۔
۔ دوسرا یہ کہ آپ اپنے آپ کو زندگی کی لذتوں سے کس حد تک روک سکتے ہیں۔
بھوک کا یہ احساس ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کی ترغیب دیتا ہے اوراس قابل بناتا ہے کہ ہم دوسروں کی مدد کر سکیں۔
اس مقصد کے لیے پاکستان کے ہر شہر ہر گاؤںمیں روزہ داروں کے لئےافطار کے دسترخوان سجائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں رمضان کے مختلف کاموں کے اوقات کار

پاکستانی مسلمان ماہ رمضان کے دوران ضبط نفس کے طریقوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ دن کے وقت روزمرہ کے معمولات کے لئے نکلنا عام بات ہے۔ تاہم ماہ رمضان میں اسکول، کالج اور دفاتر جلد شروع ہوتے ہیں اور دوپہر کے اوائل میں بند ہوجاتے ہیں تاکہ نماز اور افطاری کے لیے کافی وقت میسر رہے۔

تمام مساجد نماز تراویح اور قرآن پاک کی تلاوت کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ لوگ اپنےسر بسجود رہ سکیں اور مغفرت طلب کر سکیں۔ پاکستان میں مرد اپنی نماز کے لیے مساجد جاتے ہیں جب کہ خواتین عموماً گھر میں ہی نماز ادا کرتی ہیں۔

رمضان المبارک کے دوران، ملک کے تمام بڑے شہروں میں رات گئے تک رونق لگی رہتی ہے۔ لوگ مغرب کی نماز کے بعد باہر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ملک میں ہر چیز رمضان کے مطابق ترتیب دی جاتی ہے۔

خواتین افطاری کے وقت اپنے بچوں اور خاندان کے افراد کے لیے پسندیدہ پکوان تیار کرتی ہیں۔

مسلم دنیا میں روایت ہے، پاکستانی اپنے رمضان کی افطاری رسیلی کھجور، سے کرتے ہیں۔اس کے بعدکچھ تلی ہوئی چیزوں جیسے سموسے یا پکوڑے، چھولےاور فروٹ چاٹ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

باہر سڑکوں پر غرباء کے لئے خاص افطار کا بندوبست کیا جاتا ہے جس کا انتظام ویلفیئر کے علاوہ عام لوگ بھی کرتے ہیں۔

خیرات و زکوٰۃ

پاکستانیوں کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہمدرد لوگوں میں شمار کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب ویلفیئر اداروں کے کاموں میں حصہ لینے کی بات آتی ہے۔ تو یہ قوم سب سے آگے رہتی ہے اس بابرکت مہینے میں پاکستانی ہر ممکن حد تک دل کھول کر امداد کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہر کونے پر کوئی افطار باکس اور کوئی خیرات تقسیم کرتا دکھائی دیتا ہے۔

تمام امت مسلمہ زکوٰۃ اور صدقات دل و جان سے ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ زکوٰۃ زیادہ تر مسلمانوں کے لیے ایک لازمی عطیہ ہے، لہذا  صدقہ اختیاری ہے۔ صدقہ کسی کے ساتھ حسن سلوک کی طرح ہے۔ ہر مسلمان نماز عید سے پہلے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ ادا کرتا ہے۔

رمضان دوسروں کی مدد کرنے کا بہترین وقت ہے۔ زیادہ تر پاکستانی اپنی زکوٰۃ رمضان میں ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تمام  مسلمان رمضان المبارک کے دوران خدا سے بیشمار انعامات کی توقع رکھتے ہیں۔

زکوٰۃکا مطلب کمائی یا بچت کو پاک کرنا ہے، اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ کوئی بھی مسلمان جو ایک خاص رقم، سونا، چاندی یا دیگر اثاثوں کا مالک ہے وہ اپنی اضافی سالانہ دولت کا 2.5 فیصد ضرورت مندوں کو دینے کا پابند ہے۔

رمضان میں دیے جانے والی اشیاء میں قرآن، راشن، افطار کا سامان، مردانہ و زنانہ، بچوں کے کپڑے اور عید گفٹ شامل ہیں۔

رمضان میں  پاکستان میں کچھ باتوں کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے  

پاکستان میں رمضان کے دوران پبلک مقامات پر کھانا پینا غیر قانونی ہے۔ اس میں نجی اور سرکاری دفاتر شامل ہیں۔ اس اصول کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور بدترین صورتوں میں 3 ماہ تک جیل کا وقت بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ روزہ نہیں رکھ رہے ہیں، تو آپ صرف اپنے گھر کے اندر ہی کھانا کھا سکتے ہیں۔

ویسے تو پاکستان میں سال بھر قدامت پسندانہ لباس پہننے کا کہا جاتا ہے، لیکن زیادہ رمضان کے مقدس مہینے میں، کیونکہ لوگ اس مہینے میں تقویٰ اور تواضع کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ چست اور ظاہری لباس عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں کے لیے بھی سختی سے منع ہے۔

فطرہ ادا کرنا

صدقہ فطر روزہ دار کی بیکار بات اور فحش گوئی سے روزے کو پاک کرنے کیلئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ اناج کے علاوہ قیمت بھی غرباء کو دی جا سکتی ہے۔ 

اختتام

آئیے جہاں ہم اپنی نمازوں ،روزوں اور قرآن کے زریعے اپنی نیکیاں سمیٹنے میں لگے ہیں اسی طرح بے بس اور محروم لوگوں کے غموں کو سمیٹنے میں ان کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے میں دل کھول کر ان کی مدد کریں۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں