Thursday, May 30, 2024

بھارتی وزیر کا براک اوباما پر طنز

- Advertisement -

سابق امریکی صدر براک اوباما کے ریمارکس کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو اقلیتی مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے، اس پرہندوستان کے وزیر خزانہ نے مذاق اڑایا ہے، اور اوباما پر متضاد ہونے کا الزام لگایا ہے۔

براک  اوباما نے گزشتہ ہفتے سی این این کو بتایا کہ مودی کے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران، مودی کو امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے دوران اکثریت والے ہندو بھارت میں مسلم اقلیت کے تحفظ کا موضوع سامنے لانا چاہیے۔

اوباما نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہندوستان کسی وقت ایسے تحفظ کے بغیر الگ ہونا شروع کر دے۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

ہندوستانی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے حیرت کا اظہار کیا کہ اوباما نے اس طرح کے ریمارکس اس وقت کیے جب مودی امریکہ کے دورے پر تھے جس کا مقصد تعلقات کو مضبوط کرنا تھا۔

سیتا رمن نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا، وہ ہندوستانی مسلمانوں پر تبصرہ کر رہے تھے حلانکہ انہوں نے اپنے دور صدارت میں شام سے لے کر یمن تک مسلم اکثریتی ممالک پر بمباری کی۔

ایسے لوگوں کے الزامات پر کوئی کیوں توجہ دے گا؟

مودی کی ہندو قوم پرست جماعت کے تحت بھارت میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکی محکمہ خارجہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔

بائیڈن نے دعویٰ کیا کہ وائٹ ہاؤس میں مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے انسانی حقوق اور دیگر جمہوری اصولوں کو اٹھایا۔

پچھلے ہفتے، بائیڈن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران، مودی نے ان دعوؤں کی تردید کی کہ ان کی انتظامیہ نے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں