Thursday, May 30, 2024

جرگہ گاؤں میں شادیوں کے لیے جہیز پر پابندی عائد کرتا ہے۔

- Advertisement -

لوئر دیر کے کچھ علاقوں میں جہیز کے طور پر 2۔ 5 تولہ سونا درکار ہوتا ہے۔ تاہم، حال ہی میں دھات کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا ہے، اس کے پیش نظر غریب گھرانوں کی اکثریت اس رقم کو ادا کرنے سے قاصر ہے۔

جنوبی ایشیا، خاص طور پر پاکستان میں، ایک دیرینہ رواج ہے جسے جہیز کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے تحت دلہن کے خاندان والے دولہے کو ان کی شادی پر فرنیچر، زیورات، پیسے اور دیگر مادی سامان پیش کرتے ہیں۔

پشاور، دیہاتیوں کے مطابق، پاکستانی صوبے لوئر دیر میں ایک جرگہ، یا قبائلی عمائدین کی کونسل نے ایک تولہ 11.7 گرام سونا جہیز کے طور پر مقرر کیا تاکہ غریب خاندانوں کے بچوں کی شادی میں مدد کی جا سکے۔

ایک تولہ، یا 44 ٹرائے اونس، پاکستان میں قیمتی دھاتوں کی پیمائش کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اکائی ہے۔ اس وقت ایک تولہ سونے کی قیمت 215,800 روپے ہے۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

جرگے نے دیہاتیوں کو خبردار کیا کہ اس فیصلے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

یہ ایک لعنت ہے،

جہیز ہمارے معاشرے کی بڑی بوریوں میں سے ایک ہے یہ آج کے وقت کے لئے ایک ناسور بن کر رہ گیا ہے ہمارے معاشی مراتب کے فرق نے اسے اور بڑھاوا دیا ہے امیر گھرانے لڑکیوں کو زیادہ جہیز دے کر اپنی شان سمجھتے ہیں جبکہ غریب شخص ایسا کرنے سے قصر رہتا ہے یا پھر وہ بھی مشکلات کا سامنا کر کے قرض لے کر بتی کو رخصت کرتا ہے کہ کہیں بیٹی کو سسرال میں کوئی طعنہ نہ سننا پڑ جائے۔

اس لعنت کی وجہ سے معاشرے ہونے والی برائیاں اکثر بڑھ رہی ہیں جیسے غریب لڑکیوں کی شادی نہیں ہو پا رہی، یا ساحدی دیر سے ہونے کا سبب بن جاتی ہے، جوان لڑکیوں کی اموات یا گھر سے بھگ جانا جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جو قانون جہیز کے لئے نافذ ہے اس پر ہر غریب امیر کو عمل پیرا ہونا چاہیے اس کی خلاف ورزی کرنے والی کو سخت سزا دینی چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے سے یہ لعنت دور ہو سکے اور ہر انسان اپنی بیٹی، بہن کو اپنی حثیت کے مطابق جہیز دے کر رخصت کر سکے۔ 

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں