Thursday, May 30, 2024

خنجراب پاس 3 سال بعد پاک چین تجارت کے لیے کھول دیا گیا۔

- Advertisement -

اسلام آباد: پاکستان اور چین کو ملانے والی ایک اہم تجارتی شاہرہ خنجراب پاس کورونا کی وبا کے باعث تقریباً 3 سال تک بند رہنے کے بعد دوبارہ کھل گیا ہے۔

خنجراب پاس گلگت بلتستان کو پاکستان کے دوست ملک چین کے علاقے سنکیانگ ایغور سے جوڑتا ہے اور 3 سال پہلے کورونا کی وبا کے پھیلنے کے بعد بند ہو گیا تھا۔

چینی حکام نے تجارت کے لیے خنجراب پاس کو دوبارہ کھولنے سے متعلق پاکستانی حکام کو ایک صفحہ دیا ہے، اور چین کی جانب سے سلاٹ حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ سامان کی آمد سے قبل کووڈ-19 پر قابو پانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

اسی طرح، پاکستان کے سرحدی حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کووڈ-19 کے حوالے سے تمام اقدامات کریں، جو اس حالت پر قابو پانے ضامن ہوں۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

خنجراب پاس عام طور پر ہر سال یکم اپریل سے تیس نومبر تک کھلتا ہے، سردی کے موسم اور اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے یکم دسمبر سے اکتیس مارچ تک خنجراب پاس بند رہتا ہے۔

لیکن پاکستان کی فوری ضرورت اور دیگر سامان کی ہموار کسٹم کلیئرنس کو یقینی بنانے کے لیے، پاس کو اس سال کے اوائل میں دو بار عارضی طور پر کھولا گیا۔

انتہائی سرد موسم، شدید برف باری اور آکسیجن کی کمی جیسی مشکلات کے باوجود، مقامی کسٹمز نے سامان کی نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے 24 گھنٹے کام کیا ہے۔

اس سال آخری عارضی افتتاح 30 جنوری سے 10 فروری کے درمیان جاری رہا جبکہ پہلی بندرگاہ 19 سے 20 جنوری کے درمیان کھلی تھی۔

دوعارضی افتتاحوں نے سرحد پار اہلکاروں کے 128 دوروں، 328 ٹرانسپورٹیشن گاڑیوں کے پاس اور 6,000 ٹن سے زیادہ سامان برآمد کرنے میں سہولت فراہم کی۔

توقع ہے کہ پاس کے دوبارہ کھلنے سے پاکستان اور چائنہ کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے خنجراب پاس کے دوبارہ کھلنے کے موقع پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھانے میں مدد فراہم ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ خنجراب پاس کے دوبارہ کھلنے سے ایک رکاوٹ دور ہوگی جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) پر کام کی رفتار کو مزید تیز کرے گی۔

شہباز شریف نے اس موقع کو ‘آئرن برادر چین’ کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے لیے خوش آئند قرار دیا اور (سی پی ای سی) پر دوہری رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ (سی پی ای سی) ترقی اور خوشحالی کا تحفہ ہے جو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چینی قیادت نے خطے اور ملک کے لیے دیا ہے۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں