Thursday, May 30, 2024

پاکستان کا پہلا گرین ہائیڈروجن پلانٹ ٹھٹھہ میں لگایا جائے گا۔

- Advertisement -

کراچی: چین کے تعاون سے پاکستان کا پہلا گرین ہائیڈروجن پلانٹ ٹھٹھہ میں قائم کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں سندھ حکومت نے گرین ہائیڈروجن پلانٹ منصوبے کے قیام کا لیٹر آف انٹنٹ جاری کر دیا ہے جبکہ ٹھٹھہ میں گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور کے قریب 7000 ایکڑ اراضی بھی الاٹ کی گئی ہے۔

سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے اس منصوبے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم منصوبے سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

صوبائی وزیر توانائی نے کہا کہ “سندھ حکومت نے منصوبے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ جاری کر دیا ہے اور اس منصوبے کے لیے ٹھٹھہ ضلع کے گھارو میں 7,000 ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے”۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سندھ حکومت نے اکتوبر 2021 میں ملک کے پہلے گرین ہائیڈروجن منصوبے کی تعمیر کے لیے ایک چینی کمپنی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے۔

انگلش میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایم او یو پر دستخط کی تقریب کے موقع پر جاری کردہ منصوبے کی تفصیلات کے مطابق، اعلان کردہ منصوبہ ہوا اور شمسی فارموں سے توانائی کا استعمال کرتے ہوئے 400 میگاواٹ صلاحیت کے پلانٹ سے روزانہ تقریباً 150,000 کلو گرام گرین ہائیڈروجن پیدا کرے گا۔

گرین ہائیڈروجن ہائیڈروجن گیس کو دیا جانے والا نام ہے جو قابل تجدید توانائی، جیسے ہوا یا شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی گئی ہے، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہیں ہوتا ہے۔

گرین ہائیڈروجن قابل تجدید بجلی سے چلنے والے الیکٹرولائسز کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، جو کہ سولر پینلز یا ونڈ ٹربائنز جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔

ہائیڈروجن گیس کو نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب اسے جلایا جاتا ہے تو یہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج نہیں کرتا جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں