Tuesday, July 16, 2024

طویل مدتی اقتصادی ترقی کے لیے آبادی پر کنٹرول ضروری ہے: مفتاح اسماعیل

- Advertisement -

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےکہا، پائیدار اقتصادی ترقی کی ضمانت کے لیے، پاکستان کو اپنی آبادی میں اضافے کی شرح کو منظم کرنا ہوگا۔

سابق وزیر مفتاح اسماعیل  نے ری امیجننگ پاکستان سیمینارمیں خطاب کرتے ہوئے  اور زیادہ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر بہت سے اسلامی ممالک سے کہیں زیادہ آبادی ہے۔ اور شرح پیدائش بھی زیادہ ہے۔

بڑھتی آبادی کے لئے منصوبہ بندی

اسماعیل کے مطابق، پاکستان دنیا میں آبادی میں اضافے کی سب سے بڑی شرحوں میں سے ایک ہے جہاں سالانہ 5.5 ملین پیدائش ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی شرح پیدائش پچھلے دس سالوں میں بنگلہ دیش جیسی ہوتی تو آج پاکستان کی فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) 10 فیصد زیادہ ہوتی۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں 

سابق وزیر کے مطابق، پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) کے مطابق سب سے کم ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے، یہاں تک کہ آبادی میں اضافے کی بلند شرح کے نتیجے میں سب صحارا افریقی ممالک سے بھی پیچھے ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو اپنی آبادی کا انتظام کرنا چاہیے کیونکہ ملک کے پاس اتنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو سہارا دینے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔

تعلیم کو اولیت دیں۔

مفتاح اسماعیل نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا  ، کہ پاکستان کے 50فیصد نوجوان تعلیم سے دور ہیں۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ ہندوستان میں یہ شرح 85 فیصد ہے،اس کے مقابلے میں پاکستانی بچوں میں سے صرف 44 فیصد میٹرک جماعت میں زیر تعلیم ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے نوٹ کیا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، جو دنیا کے بہترین انڈرگریجویٹ پروگراموں میں سے ایک کے لیے جانا جاتا ہے، اس کے پورے ہندوستان میں 26 کیمپس ہیں۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل افراد دنیا کے کچھ اعلیٰ کاروباری اداروں کے سی ای او بنتے ہیں۔

سابق وزیر نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اوسط پاکستانی بچہ صرف تین ماہ کا ڈپلومہ حاصل کرتا ہے، جب کہ بھارت دنیا کے چند اعلیٰ ترین کالج بنا رہا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر تعلیم کے شعبے پر زیادہ زور نہ دیا جائے تو پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ آپ  نے معاشی ترقی کے حصول کے لیے صنفی مساوات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی زیادہ برآمدات کا سہرا آبادی میں اضافے اور لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے کی پالیسی کو دیا۔ ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا، کہ اگر پاکستان خواتین (آبادی کا 50 فیصد) کو نظرانداز کرتا ہے تو آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں