Tuesday, July 16, 2024

دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا سولر پینل

- Advertisement -

آپ نے جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے بڑا تیرتا سولر پینل نہیں دیکھا ہوگا۔

یا آپ میں سے کتنے لوگ ہونگے جہوں  نے تیرتا سولر فارم یا پینل جیسا کچھ پہلے کبھی نہیں سوچا ہوگا۔

اسی طرح کی کوئی بھی چیز سوچنے میں ہی لاجواب ہے کیونکہ اس کا کام ابھی حال میں مکمل ہوا ہے۔

انگلش میں خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

شاید بہت سے لوگ اس بارے میں جاننا چاہیں کہ پانی پر سولر پینلز کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

انڈونیشیا جزائر

انڈونیشیا ایک جزیرہ نما ملک ہے جو 17000 ہزار جزائر پر مشتمل ہے اور موجودہ وقت میں پاکستان کی طرح انڈونیشیا کو بھی سستی اور صاف ستھری توانائی کی ضرورت ہے۔

دنیا کے جس حصے میں انڈونیشیا وقعہ ہے اس حصے میں زیادہ ہوا نہیں ہے اس لیے ونڈ فارم بنانا بہت مشکل ہے اور اس میں سے زیادہ تر کے لیے بہت زیادہ ہموار زمین بھی نہیں ہے جو تھوڑی بہت ہے بھی اسے زراعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ اس طرح کے ممالک سستی اور صاف توانائی کیسے پیدا کریں؟۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا مصدر نے ایک نئی قسم کا سولر فارم ڈیزائن کرا اورپھر بنایا ہے جو ڈوبے بغیر پانی پر تیر سکتا ہے۔ یہ سولر پینل عام پینل سے کئی زیادہ مضبوط ہے ااور یہ لہروں کے ساتھ بھی حرکت کر سکتا ہے۔

انڈونیشیا میں جس جگہ یہ حوض یا جھیل ملی ہے اسے ہزاروں سولر پینلز سے ڈھانپ دیا گیا ہے ۔ یہ پینل 14 فٹ بال کے میدان جتنا بڑا ہے۔
سورج جب طلوع نہیں ہوا ہو اس کی بجائے آبی ذخائر میں پانی بخارات بن جاتے ہیں اور اسے سولر پینلز سے پکڑ لیا جاتا ہے پانی کو بچاتے ہوئے اور اسی وقت بجلی پیدا کرلی جاتی ہے۔

سولر پینل ہل تو سکتے ہین مگر اپنی جگہ جھوڑ نہیں سکتے کیونکہ وہ جھیل کے بیڈ کے نیچے سے جڑے ہوتے ہیں اور جھیل کے بیڈ کا نچلا حصہ تقریباً 100 میٹر تک ہے۔

یہ ان لوگوں کی بہت محنت تھی جو صاف توانائی کے مستقبل پر یقین رکھتے ہیں، متحدہ عرب امارات میں مصدر اور مقامی انڈونیشیا کی حکومت صرف اس سولر فارم کی وجہ سے  انڈونیشیا میں اب صفر کاربن کے اخراج کے ساتھ 50000 گھروں بجلی پہنچا رہے ہیں ۔

یہ منصوبہ طاقت بناتا ہے اور یہ مقامی لوگوں کو طاقت دیتا ہے ان مقامی لوگوں کو بااختیار بناتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں  1400  لوگوں کو روزگار ملا، قریبی قصبوں میں اسکول بنائے گئے، مسجدیں صرف اس سولر فارم کے لیے بنائی گئیں۔

یہ جیت ہے انڈونیشیا کی، کرہ ارض کی، آلودگی کم کرنے والوں کی  لوگوں کی۔

 تازہ ترین خبریں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں 

اسی مصنف کے اور مضامین
- Advertisment -

مقبول خبریں